مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوزوساز
مسلم دُنیا میں خون خرابے کے حوالے سے ایک فکرِ انگیز تحریر۔
میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم انٹرنیشنل
حیرت ہوتی ہے اور ماتم کرنے کو بھی جی چاہتا ہے کہ ہمارئے سیاستدان نہ
جانے احمقوں کی کونسی جنت میں بس رہے ہیں کہ اُن کو زمینی حالات کا ادراک
ہی نہیں۔لیبیا میں جو کچھ ہوا اور جس طرح وہاں خون خرابہ کیا گیا معمر
قذافی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔اِسی طرح عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی
گئی عراقی صدر صدام حسین کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے وہ دن چُنا گیا جب
مسلمانوں کی عید کا دن تھا اور دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک
میڈیا صدام حسین کی پھانسی کا منظر براہ راست دکھا رہے تھے اور لاکھوں
لوگوں عراق میں خون میں نہلا دیا گیاعراق کو تباہ برباد کرکے رکھ دیا گیا۔
وہاں کچھ بھی سلامت نہیں رہا۔بات یہاں تک ہی نہیں رہی مصر میں حالات جہاں
تک پہنچے ہیں اور وہاں جس طرح عوام کا قتل عام ہورہا ہے اُس حوالے سے کوئی
دو آرا نہیں پائی جاتی ہیں۔مصری عوام اِس وقت یرغمال بنے ہوئے ہیں۔عراق
اور مصر میں خانہ جنگی کا ماحول ہے۔یہ داستانیں صدیوں پرانی نہیں ہیں جب
خبریں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ نہیں پاتی تھیں یہ انٹرنیٹ، تھری فورجی
فور کا دور ہے۔ آن واحد میں دنیا کے ایک کونے کی خبر لاءئیو دوسرئے کونے
میں دکھا دی جاتی ہے۔
شام میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تباہ برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے شام کو ۔بھوک افلاس نے ڈیرئے ڈال رکھے ہیں۔
کشمیر قیام پاکستان سے لے کر اب تک خون سے رنگین ہے اور قبرستانوں میں جگہیں کم پڑتی جارہی ہیں
افغانستان کی قسمت بھی کچھ ایسی ہی ہے سویت حملے سے لے کر اب تک افغانستان میں قتل و غارت عروج پر ہے امریکی سامراج جن کو پہلے دوست رکھتا تھا اب اُن کے خلاف ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لڑ رہا ہے۔ لاکھوں افغان قتل کردئیے گئے ہیں۔ تباہ حال افغانستان بھوک افلاس کا عبرتناک نشان بن چکا ہے۔اِسی طرح یمن میں بھی شورش جاری ہے بحرین میں بھی لااوا پک چکا ہے اور اِس کا حال گزشتہ مہینوں میں دیکھا بھی جا چکا ہے۔مسلم دنیا کے حوالے سے ایران اور سعودی عرب کا کردار قابل ستائش نہیں ہے۔ اپنی صدیوں سے جاری سرد جنگ کی وجہ سے یہ دونوں ممالک مسلمان ممالک میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو آشیرباد دیتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ فرقہ ورانہ جنگ کے بیج بو دئیے گئے ہیں اور سعودی عرب اور ایران اس حوالے سے اپنا کردا ادا کرہے ہیں۔خونِ مسلمان کی ارزانی کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی سامراج مسلمانوں کو تہہ وبالا کرنے پہ تُلا ہوا ہے لیکن مسلمان ممالک کبوتر کی طرح آنکھیں موندھے ہوئے ہیں۔مُتذکرہ بالا ممالک میں خواتیں بوڑھے اور بچے جس جہنم میں زندگی گزار رہے ہیں اُسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گاجر مولیوں کی طرح بچوں بوڑھوں عورتوں کو شھید کیا جارہا ہے۔ترکی، پاکستان، ایران اور سعودی عرب اگر یہ ممالک آپس میں مل بیٹھ جائیں تو شائد امریکی سامراج کو مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے سے منت سماجت کرکے روک سکیں۔ پاکستان میں جاری دہشت گردوں کے خلاف جنگ دراصل بھارت، امریکہ کے خلاف ہے اور پاکستان میں بلوچستان اور کے پی کے میں جتنا نقصان پاک فوج اُٹھا چکی ہے اُس کے مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ عام جوان سے لے کر جرنیل تک اِس دہشت گردی کی جنگ میں شھید ہوئے ہیں۔ اِسی طرح عوام بھی ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں۔ مالی نقصان بھی کھربوں میں ہے۔ہمارئے ملک کے سیاستدان نہ جانے کہاں بستے ہیں وہ ایک دوسرئے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں اُنھیں اِس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ملک کے وجود کو شدید خطرات لاحو ہیں اور اِن خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ااپس میں اتحد و اتفاق ہونا ضروری ہے۔پاک فوج آپریشن عضب میں دُشمن سے برسرپیکار ہے۔ اور سیاستدان عوام کو آپس میں لڑوارہے ہیں۔پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کرسی کی حرص کو بالا طاق رکھتے ہوئے ریاست کی حفاظت کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔اقوام متحدہ ،او آئی سی،نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کو اِس خون کی ارزانی کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔
شام میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ تباہ برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے شام کو ۔بھوک افلاس نے ڈیرئے ڈال رکھے ہیں۔
کشمیر قیام پاکستان سے لے کر اب تک خون سے رنگین ہے اور قبرستانوں میں جگہیں کم پڑتی جارہی ہیں
افغانستان کی قسمت بھی کچھ ایسی ہی ہے سویت حملے سے لے کر اب تک افغانستان میں قتل و غارت عروج پر ہے امریکی سامراج جن کو پہلے دوست رکھتا تھا اب اُن کے خلاف ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لڑ رہا ہے۔ لاکھوں افغان قتل کردئیے گئے ہیں۔ تباہ حال افغانستان بھوک افلاس کا عبرتناک نشان بن چکا ہے۔اِسی طرح یمن میں بھی شورش جاری ہے بحرین میں بھی لااوا پک چکا ہے اور اِس کا حال گزشتہ مہینوں میں دیکھا بھی جا چکا ہے۔مسلم دنیا کے حوالے سے ایران اور سعودی عرب کا کردار قابل ستائش نہیں ہے۔ اپنی صدیوں سے جاری سرد جنگ کی وجہ سے یہ دونوں ممالک مسلمان ممالک میں ہونے والی تخریبی سرگرمیوں کو آشیرباد دیتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ فرقہ ورانہ جنگ کے بیج بو دئیے گئے ہیں اور سعودی عرب اور ایران اس حوالے سے اپنا کردا ادا کرہے ہیں۔خونِ مسلمان کی ارزانی کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی سامراج مسلمانوں کو تہہ وبالا کرنے پہ تُلا ہوا ہے لیکن مسلمان ممالک کبوتر کی طرح آنکھیں موندھے ہوئے ہیں۔مُتذکرہ بالا ممالک میں خواتیں بوڑھے اور بچے جس جہنم میں زندگی گزار رہے ہیں اُسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ گاجر مولیوں کی طرح بچوں بوڑھوں عورتوں کو شھید کیا جارہا ہے۔ترکی، پاکستان، ایران اور سعودی عرب اگر یہ ممالک آپس میں مل بیٹھ جائیں تو شائد امریکی سامراج کو مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے سے منت سماجت کرکے روک سکیں۔ پاکستان میں جاری دہشت گردوں کے خلاف جنگ دراصل بھارت، امریکہ کے خلاف ہے اور پاکستان میں بلوچستان اور کے پی کے میں جتنا نقصان پاک فوج اُٹھا چکی ہے اُس کے مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ عام جوان سے لے کر جرنیل تک اِس دہشت گردی کی جنگ میں شھید ہوئے ہیں۔ اِسی طرح عوام بھی ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردی کی نذر ہوچکے ہیں۔ مالی نقصان بھی کھربوں میں ہے۔ہمارئے ملک کے سیاستدان نہ جانے کہاں بستے ہیں وہ ایک دوسرئے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں اُنھیں اِس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ خدا نخواستہ ملک کے وجود کو شدید خطرات لاحو ہیں اور اِن خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ااپس میں اتحد و اتفاق ہونا ضروری ہے۔پاک فوج آپریشن عضب میں دُشمن سے برسرپیکار ہے۔ اور سیاستدان عوام کو آپس میں لڑوارہے ہیں۔پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کرسی کی حرص کو بالا طاق رکھتے ہوئے ریاست کی حفاظت کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔اقوام متحدہ ،او آئی سی،نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کو اِس خون کی ارزانی کا کوئی احساس تک نہیں ہے۔
![]() |
| MINA ASHRAF ASMI ADVOCATE IS PRACTICING LAWYER IN LAHORE HIGH COURT AND CHAIRMAN MUSTAFAI JUSTICE FORUM INTERNATIONAL |
